انگلينڈ اور کوئين ايتھل برگاس
کالج ميں تعليم کے لئے کيوں آياجائے؟
ديار غير سے آنے والے طلبہ عام طور پر ہمارے ماحول ميں جلد ہي گھل مل کر ہنسی خوشی رہنے لگتے ہيں ۔ ظاہر بات ہے اگر آپ کا بچہ دوران حيات دوسرے ممالک کا سفر کرسکتا ہے تو اس عمل سے اس ميں مزيد خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
وہ والدين جوکہ انگلينڈ سے بائر رہائش پذير ہيں ايتھل برگاس کالج ميں انگريزي طريقہ تعليم کو بہت سي وجوہات کےسبب منتخب کرتے ہيں۔ بہت سے والدين انگريزی معیار تعليم کو بلند تر تصور کرتے ہیں اور انکے خیال میں يہاں پرجو تعليم دي جاتي ہے وہ ان کے اپنے ممالک کی تعلیم سے بہت بہتر ہوتی ہے۔ والدين کي ايک بڑي تعداد اس امر کي خوائش مند ہوتي ہے کہ ان کے بچے انگريزی بولنے اور لکھنے پر مکمل عبور حاصل کريں۔ کچھ کي آرزو يہ ہوتي ہے کہ ان کے بچے کسی بہترين انگريزي يونيورسٹي ميں تعلیم جاری رکھیں اور ان کے خيال ميں انگلينڈ ميں تعليم حاصل کرنے سے ان کے بچوں کے لئے وہاں کي يونيورسٹی ميں داخلہ لينا بہت آسان ہو جاۓگا۔ ايک چھوٹي تعداد ان لوگوں کي بھی ہے جو کہ ہماري گھڑسواری کي سہوليات کے سبب ہمارے ہاں داخلہ ليتے ہيں۔
بعض والدين ايسے ممالک ميں رہتے ہيں جہاں پر سياسی ماحول ان کي خواہش کے مطابق نہيں ہوتا يا پھر ان کی توقعات کے مطابق ان کے بچوں کے لئے محفوظ نہيں ہوتا۔ کچھ والدين بہت سي وجوہات کے سبب اپنے ممالک ميں نہايت شہرت کے مالک ہوتے ہيں اور چاہتے يہ ہيں کہ ان کے بچے کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جاۓ اور يہ عين ممکن ہے کہ اپنے ملک ميں رہتے ہوئے ايسا ہونا ناممکن ہو۔ والدين کي ایک تعداد انگريزي سکول کو اس لئے منتخب کرتی ہے کيونکہ ہم کام کرنے کي ايک مضبوط اور سچي لگن پر يقين رکھتے ہيں جہاں ہمارے بچے سخت محنت کے عوض شاندار امتحاني نتائج حاصل کرتے ہيں۔
چندايک والدين اپنے بچوں کو مغربي تہذيب و تمدن کا خوگر بنانے کے آرزومند ہوتے ہيں۔وہ يہ نہيں چاہتے کہ ان کے بچے اپني تہذيبي اساس کو بھول جائيں بلکہ ان کو بين الاقوامي تجارتي معاشرہ کے تقاضوں کا بھي احساس ہے کہ مغرب کے لوگوں کو سمجھنا، انکے درمیان آرام دہ اور پراعتماد محسوس کرنا وہ خصوصيات ہیں جو آنے والي زندگي ميں ان کے بچوں کو زبردست فائدہ ديں گي۔
انگريزي بطور زبان پوري دنيا ميں بولي جاتي ہے۔انگريزي زبان بولنا اور سمجھنا کوئی ایسا اہم مسئلہ نہيں۔ ۔اگر آپ اتنا ہي چاہتے ہيں تو آپکے بچے بڑي آساني سے اپنے ہي اسکول ميں يا نجي انتظام کے ذريعے جہاں آپ رہتے ہیں وہیں رہتے ہوۓ انگريزي سيکھ سکتےہيں۔ اس طریقہ پر عمل کرنے سے جزوی طور پر آپ کی خواہش پوری تو ہو جاۓ گی مگر آپ اس کے مجموعي فوائد سے بہرہ مند نہيں ہونگے۔
ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کا یہ تصور ہو کہ انگريزي زبان لوگوں کي ايک مخصوص نسل تک محدود ہے۔ ہمارے ہاں ايک جمہوري نطام حکومت ہے گو اتنا کھلا اور دھوم دھام والا نہیں جیسا امريکہ میں ہے مناسب انگلش ا نداز يہ ہے کہ اپنے مقاصد کو خاموشي سے، بغير کسي ہنگامہ خيزي کے باوقار رہتے ہوئے حاصل کيا جائے۔ حقيقي برطانوي باشندہ مؤدب اور سنجيدہ ہوتا ہے۔انگريزي مزاح دنيا کے دوسرے لوگوں کو اس وقت تک مشکل سے ہي سمجھ آتاہے جب تک انھوں نے انگلينڈ ميں کچھ سال نہ گذارے ہوں۔ خلاصہ يہ ہے کہ آپ اس وقت تک انگلش طرز حيات کو نہيں سمجھ سکتے جب تک آپ اس ملک ميں چند سال نہ گذاريں۔
اگر آپ اپنے بچے کو يونيورسٹي جانے سے قبل سکستھ فارم کے دو سالوں کے لئے ہمارے ہاں داخل کروائيں تو يہ اس کے لئے بہت اچھا ہوگااوروہ آپ کي خواہش کے مطابق ترقي کے لوازمات حاصل کرلے گا۔تاہم بہت سے والدين اپنے بچوں کو کوئين ايتھل برگاس ميں اس وقت بھيجتے ہيں جب وہ آٹھ سال، گيارہ سال يا تيرہ سال کي عمر کے ہوں۔بچے جتنازيادہ وقت ہمارے ساتھ لگائيں گے اتنے بہتر نتائج حاصل کريں گے اور ان کا يہ تجربہ زندگي کے اگلے مراحل ميں ان کے لئے مفيد ثابت ہوگا۔